بنگلورو،2؍فروری(ایس او نیوز) کرناٹک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی (کے ایس او یو) گزشتہ کچھ سال سے تقریباً بند ہے۔ اس سے ہزاروں طلباء وطالبات کا مستقبل خطرے میں پڑا ہوا تھا۔ اب ان کے ساتھ ساتھ کئی گرائجویٹس کے لئے بھی امید کی کرن جاگی ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ ماہرین کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرے ۔ یاد رہے اس وقت کی ایڈیشنل چیف سکریٹری کے رتناپربھا کی قیادت میں ماہرین کی یہ کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ رتن پربھا نے گزشتہ سال دسمبر میں یہ رپورٹ محکمہ برائے اعلیٰ تعلیم کو پیش کردی تھی۔ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد ان طلباء کے مستقبل کے بارے میں مطالعہ کرنا تھا جنہوں نے 2012ء سے قبل اپنا گرائجویشن مکمل کیا ہے کیونکہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یوجی سی) نے اس یونیورسٹی کا الحاق واپس لے لیا ہے۔ رپورٹ میں کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ 2012ء سے قبل جو طلباء گرائجویشن کرچکے ہیں ، ان کے ناموں پر سرکاری ملازمت کے لئے غور کیا جائے۔ اس سے ایک لاکھ طلباء کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کمیٹی نے اس طرح کی دیگر 10؍ سفارشات بھی کی ہیں۔ کے ایس او یونان ٹیچنگ ایمپلائیز اسوسی ایشن نے اکتوبر 2017ء میں کمیٹی کے قیام کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اپنے عبوری حکم میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس کی طرف سے ہدایت ملنے تک حکام کوئی فیصلہ نہ لیں۔ تاہم جمعرات یکم فروری کو اس نے کہا ’’عدالت کی جانب سے دیاگیا پرانا عبوری حکم ، حکومت کے یہ اہم سفارشات نافذ کرنے کی راہ میں نہیں آئے گیا۔ ‘‘ عدالتی حکم کے فوری بعد رتنا پربھا نے اس کے بارے میں ٹوئیٹ کیا۔ اس طرح سینکڑوں طلباء نے راحت کا سانس لیا۔ ان سفارشات میں2013-14ء اور 2014-15ء کے دوران کے ایس او یو کے غیر تکنیکی ان ہاؤز کورسز کئے ہوئے طلباء کو جاری مارکس کارڈز کو یک وقتی اقدام کے طور پر جائز قرار دیا جائے۔ اس کے پیش نظر حکومت اب کمیٹی کی دیگر سفارشات کو نافذ نہیں کرسکتی۔جسٹس اے بی بوپنا نے مذکورہ اسوسی ایشن کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کل یہ حکم جاری کیا۔